14 دسمبر 2011 - 20:30

اسلام آباد…میمو گیٹ اسکینڈل کے مرکزی کردارامریکی شہری منصور اعجاز نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو اکیاسی صفحات کا تحریری جواب ، مبینہ اہم شواہد کے ساتھ پیش کردیا ہے.

ابنا: میمو گیٹ اسکینڈل کے مرکزی کردارامریکی شہری منصور اعجاز نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو اکیاسی صفحات کا تحریری جواب ، مبینہ اہم شواہد کے ساتھ پیش کردیا ہے، اس میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل احمد شجاع پاشا سے ملاقات کی تفصیل شامل ہے ،منصوراعجازکے مطابق ممکن ہے کہ حسین حقانی نے حکومت کوباضابطہ آگاہ نہ کیاہو، فوج کی گہری خواہش ہے کہ حکومت مدت پوری کرے،جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنرل پاشا مجھ سے آرمی چیف کی اجازت سے ملے۔

چودہ دسمبر کو دفتر اوقات تک میمو کیس کے 10 فریقین میں سے صرف 2 نے جوابات جمع کرائے، ان میں منصور اعجاز اور حسین حقانی شامل ہیں، منصور اعجاز کے جواب میں شامل شواہد میں تحریری نوٹس ،بلیک بیری میسنجر کی 31 اسکرین تصاویر بھی شامل ہیں ، سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے منصور اعجاز کے 81 صفحات پر مشتمل تحریری جواب کے مطابق منصور اعجاز کی جنرل پاشاسے22 اکتوبرکولندن کے پارک لین ہوٹل میں ملاقات ہوئی جو شام ساڑھے6 بجے سے رات ساڑھے10 بجے تک جاری رہی، ملاقات کے دوران جنرل پاشا نے میمورنڈم 3 منٹ کے اندر پڑھ لیا تھا۔

منصور اعجاز کے جواب کے مطابق جنرل پاشاکے ہمراہ ایک شخص آیا اورمجھ سے ہاتھ ملا کر فوراً واپس چلاگیا، منصور اعجاز نے جواب میں لکھا ہے کہ جنرل پاشا کو جو بھی بتایا اس کی شہادت بھی پیش کرتا رہا جبکہ جنرل پاشا سے ملاقات کے لیے نوٹ پیڈ اور الیکٹرانک ڈیوائسز لے کر گیا تھا۔

منصور اعجاز نے بتایاکہ جنرل پاشا سے ملاقات 22 اکتوبر کو لندن کے پارک لین ہوٹل میں ہوئی جو چار گھنٹے جاری رہی ،،جنرل پاشا نے بتایاکہ وہ آرمی چیف کی اجازت سے آئے ہیں، جنرل پاشا نے کہاکہ ان کی اور جنرل کیانی کی گہری خواہش ہے کہ حکومت مدت پوری کرے، تاہم میمورنڈم کے پس منظر اور مندرجات کو نظراندازبھی نہیں کیا جاسکتا، جنرل پاشا کو جو بھی بتایا، اسکی شہادت بھی پیش کیں،جنرل پاشا سے مل کر ڈیٹا کی تفصیلات کو پرکھا گیا، پاشا کئی بار حیران ہوئے لیکن ڈیٹا کے متعلق کوئی شک و شبہ ظاہر نہیں کیا، میمورنڈم پڑھ کر جنرل پاشا نے مایوسی اور بے توقیری محسوس کی، منصور اعجاز نے کہاکہ ممکن ہے کہ حسین حقانی نے اپنی سرگرمیوں سے حکومت پاکستان کو باضابطہ آگاہ نہ کیا ہو،جنرل پاشا نے بھٹو، شریف، مشرف سے میرے روابط کا بھی پوچھا،منصوراعجازنے کہاکہ حسین حقانی نے اس کی آصف زرداری سے بھی 2009ء میں ملاقات کرائی تھی، حسین حقانی چونتیس صفحات پر مشتمل جواب پہلے ہی داخل کرچکے ہیں، اس میں انہوں نے منصوراعجاز کے الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے مقدمہ کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھائے اور کہاکہ منصور اعجاز مشکوک کردار کا حامل شخص ہے۔  ........

/169